news, information 57

10 اشارے جو جسم میں پانی کی کمی ظاہر کریں

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کئی کئی گھنٹے اپنے کام میں مصروف رہنے کے باعث پانی پینا بھول جاتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہوتا ہے کیونکہ جسم کو اس سیال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اپنے افعال مناسب طریقے سے جاری رکھ سکے جبکہ توانائی اور توازن بھی اس کی مدد سے ہی ممکن ہوتا ہے۔موسم چاہے سردی کا ہو یا گرمی کا مگر مناسب مقدار میں پانی کی ضرورت جسم کو ہر وقت ہوتی ہے جس کی کمی کی صورت میں آپ کو مختلف مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ یہاں چند ایسی ہی علامات کا ذکر ہے جو صرف پانی کے چند گلاس پینے سے دور کی جاسکتی ہیں۔

سانس کی بو
ہر وقت پیاز یا لہسن کو سانس کی بو کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا، درحقیقت پانی منہ میں جاکر لعاب دہن کو بو پیدا نہیں کرنے دیتا، تو اگر آپ پانی کی کمی کے شکار ہیں تو سانس کی بو کا سامنا ضرور ہوگا۔ ایک تحقیق کے مطابق منہ زیادہ دیر تک خشک رہے تو منہ میں موجود بیکٹریا بدبو دار ہوجاتے ہیں جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں۔

ذہنی الجھن
اگر اکثر ذہنی طور پر الجھن کا شکار ہوتے ہیں تو یہ کئی عارضوں کی علامت ہوسکتی ہے، تاہم اگر آپ نے کافی دیر سے مناسب مقدار میں پانی نہیں پیا تو یہ واضح طور پر اشارہ ہوتا ہے کہ آپ کو جاکر پانی پی لینا چاہئے۔

کھانے کی اشتہار
جگر کو اپنے افعال کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم جب آپ ایسا نہیں کرتے تو یہ دماغ کو یہ سگنل بھیجتا ہے کہ جسم کو کھانے کی ضرورت ہے اور ایسا ہونے پر اکثر ایسی غذاﺅں کا استعمال ہوتا ہے جو موٹاپے کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔

جلدی مسائل
اگر آپ کی جلد خشک اور جھریوں کا شکار ہورہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جسم پانی کی طلب کررہا ہے جو کہ جلد کو روشن اور صحت مند رکھتا ہے، جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو وہ خشک اور پرت دار ہونے لگتا ہے خاص طور پر سردیوں کے موسم میں اور یہ ضروری ہے کہ اچھی جلد کے لیے مناسب مقدار میں پانی کا استعمال کیا جائے۔

پسینہ نہیں آتا
اگر جسم میں پانی کی کمی ہوگی تو جسم باقی ماندہ سیال بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے جس کے نتیجے میں گرمی میں بھی پسینے کا اخراج تھم جاتا ہے، یہ ایک سنگین عارضہ ہے ایسا ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔

کھڑے ہونے پر سر چکرانا یا ہلکا ہونا
طبی ماہرین کے مطابق کھڑے ہونے پر سر چکرانا ہا ہلکا پن اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے اندر پانی کی کمی ہورہی ہے، اگر ایسا ہو تو دن بھر میں کچھ گلاس پانی زیادہ پینا شروع کردیں اور اگر تبدیلی آئے تو ثابت ہوجائے گا کہ یہ ڈی ہائیڈریشن کا نتیجہ تھا۔

مسلز اکڑنا
اگر صبح اٹھنے کے بعد جسم کے مختلف حصوں میں اکڑن اور تنا? محسوس ہو تو یہ بھی پانی کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے، اگر آپ اضافی اکڑن محسوس کریں تو فوری طور پر پانی پی لیں تاکہ تناﺅ میں کمی آسکے۔

ہر وقت سردرد رہنا
اگر آپ کو اکثر شدید سردرد رہتا ہے تو یہ ممکنہ طور پر اس بات کی علامت ہے کہ آپ ڈی ہائیڈریشن کے شکار ہورہے ہیں، ایسا ہونے پر درد کش
ادویات کے استعمال سے پہلے ایک یا دو گلاس پانی پی کر انتظار کریں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایسا کرنے سے درد دور ہوجائے۔

گہرے زرد رنگ کا پیشاب
پانی کی کمی کا ایک بڑا ثبوت پیشاب کی رنگت کا بدل جانا ہے، اگر وہ بہت زیادہ زرد یا پیلے رنگ کا ہے تو یہ واضح ہے کہ آپ کے جسم میں پانی کی کمی واقع ہوگئی ہے۔

قبض کی شکایت
اگر آپ کو اکثر قبض کی شکایت رہتی ہے تو یہ بھی پانی کی کمی کی ایک علامت ہوسکتی ہے جس کا حل پانی کا استعمال بڑھا دینا ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے آنتوں کو کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ہر وقت تھکاوٹ
مناسب نیند کے باوجود اگر آپ دن بھر تھکاوٹ کے شکار رہتے ہیں تو اس کی وجہ ڈی ہائیڈریشن ہوسکتی ہے، جسم میں پانی کی مناسب مقدار حسوں کو چوکنا رکھتی ہے اور توانائی بھی فراہم کرتی ہے، تو اگر آپ سستی محسوس کررہے ہوں تو پانی پی لیں، اگر پھر بھی شکایت دور نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ یہ دیگر امراض کا انتباہ بھی ہوسکتی ہے۔

پانی کی کمی پورا کرنے والی 10غذائیں
ہماری زندگی میں پانی مرکز حیات کا درجہ رکھتا ہے ڈاکٹرز روزانہ آٹھ سے زائد گلاس پانی پینے کی ہدایت کرتے ہیں، جو کہ ایک مصروف دن میں مشکل کام بن جاتا ہے. ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے جسم میں پانی کی بیس فی صد ضرورت ٹھوس خوراک بالخصوص سبزیوں اور پھلوں سے پوری ہو سکتی ہے گویا ہم پانی صرف پی ہی نہیں بلکہ کھا بھی سکتے ہیں گرمیوں میں پیاس کی بڑھتی ہوئی شدت اور ڈی ہائیڈریشن سے بچاؤ کیلئے درج ذیل پندرہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال مفید ہوسکتا ہے۔ ان کا نوے فیصد سے زیادہ حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔

1۔ کھیرا (پانی کی مقدار 96.7فیصد)
کھیرا گرمیوں میں آنے والی سبزی ہے اور کسی بھی ٹھوس غذا میں پانی کی سب سے زیادہ مقدار کھیرے میں پائی جاتی ہے کھیرا سلاد کی صورت اور سلائس کرکے بھی کھایا جاتا ہے اور آپ دہی، دھنیا، پودینہ اور آئس کیوبز کے ساتھ ساتھ ملاکر کھیرا سوپ بھی بناسکتے ہیں جو گرمیوں میں بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ گرمیوں میں کھیرے کا روزانہ استعمال آپ کے جسم میں پانی کی مقدار کو متوازن رکھتا ہے جو کہ آپ کی اسکن کے لئے بھی انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے۔

2۔سلاد کے پتے (پانی کی مقدار 95.4 فیصد)
یہ کہنا تو درست نہ ہوگا کہ سلاد کے پتوں میں منفی کیلوریز ہوتی ہیں اس حد تک یہ بات ضرور درست ہے کہ سلاد کے پتے انتہائی کم کیلوریز رکھتے ہیں مگر ان میں وٹامن C,A اور K اور FOLATE کی بہترین مقدار پائی جاتی ہے، جبکہ یہ پانی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ان کے مستقل استعمال سے دل کی بیماریاں اور اعصابی تھکن سے بچاؤ فراہم ہوتا ہے۔

3۔ چقندر (پانی کی مقدار 95.3 فیصد)
جڑ میں اگنے والی یہ سبزی اپنے اندر نہ صرف پانی بلکہ طاقت کا ایک خزانہ لئے ہوتی ہے یہ آپ کے لئے موسم بہار اور گرمیوں کی سلاد کا بہترین رکن ہونا چاہیے، آپ چقندر کا دوسری سبزیوں کے ساتھ بغیر مایونیز استعمال کئے بہترین سمر کول سلو بناسکتے ہیں، ایک باؤل میں باریک کٹے ہوئے چقندر، بندگوبھی، گاجر، مٹر کے دانے ڈالیں اس میں تھوڑا سا اولیو آئل، لیمن جوس، نمک اور کالی مرچ چھڑک کر اچھی طرح مکس کرلیں، یہ تمام سبزیاں پانی کی بہترین مقدار رکھتی ہیں اور آپ کے جسم کو پانی کی کمی کا شکار نہیں ہونے دیں گی اور آپ کو صحت مند اور توانا رکھیں گی۔

4۔ ٹماٹر (پانی کی مقدار 94.5 فیصد)
ٹماٹر سلاد کا ہمیشہ سے اہم حصہ رہا ہے جبکہ ساسز اور سینڈوچز بھی ٹماٹر کے استعمال کے بغیر ادھورے ہیں۔ پانی کی بھرپور مقدار رکھنے والا ٹماٹر مشرقی کھانوں میں پیاز کے بعد دوسرا اہم ترین جز ہے اگرچہ اس کو کچا کھانا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے سوئیٹ چیری یا انگور کی کوئی قسم کے ساتھٹماٹر کو کھایا جائے تو یہ بہترین ہائیڈریٹ سبزی ہے، پنیر یا نٹس کے ساتھ کھانے بھی بہت اچھا ذائقہ محسوس ہوتا ہے۔

5۔ پھول گوبھی (پانی کی مقدار 92.1 فیصد)
پھول گوبھی کے ظاہری رنگ کو دیکھ آپ مایوس مت ہوں کیوں کہ اس گوبھی میں پانی کی بھرپور مقدار کے ساتھ دیگر غذائی اجزاء جیسے وٹامنز اور فائٹو نیوٹرینٹسپائے جاتے ہیں جو ہمارے کولیسٹرول لیول کم رکھنے میں مدد دیتا ہے اور کینسر جیسے مرض خاص طور پر بلڈکینسر کے خلاف لڑنے میں جسم کو قوتِ مدافعت پہنچتا ہے ایک اسٹڈی میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ اگر کینسر کے کسی مریض کو اس قسم کی سبزیاں جیسے پھول گوبھی وغیرہ کھلائی جائیں تو اس سے انہیں اس مرض میں جلدی ریکورٹی کا موقع ملتا ہے، پھول کے پتوں اور پھولوں کو باریک کاٹ کر آپ سلاد کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں اور اسے ہلکا فرائی کرکے بھی کھایا جاسکتا ہے۔

6۔ پالک (پانی کی مقدار 91.4 فیصد)
بند گوبھی کے مقابلے پالک میں پانی کی مقدار کم ہوتی ہے لیکن پھر بھی ہم پالک کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اگر پالک کے پتوں کو سلاد کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں یا پھر اسے سینڈوچز میں بھی کھایا جاتا ہے اس سے نہ صرف پانی کی بھرپور مقدار آپ کے جسم کو ملتی ہے بلکہ پالک میں شامل پوٹاشیم کے فائبر اور دماغ کو تیز کرنے والے اجزاء فولیٹسے بھرپور ہوتا ہے۔ پالک کا ایک کپ آپ کے جسم کی روزانہ کی ضرورت کے مطابق 15 فیصد وٹامن ای فراہم کرسکتا ہے، وٹامن ای جسم میں تباہ ہونے والے مالیکول کو دوبارہ بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

7۔ گریپ فروٹ(پانی کی مقدار 90.5 فیصد)
یہ انتہائی رس بھرا فروٹ ہے جو ہمارے جسم میں کولیسٹرول لیول کو کم رکھنے میں مدد دیتا ہے اور واسٹ لائنکو کم کرتا ہے جو لوگ گریپ فروٹ استعمال کرتے ہیں وہ ایک دن 15.5 فیصد تک اور 27 فیصد ٹرائی گلائسرائیڈز کو کم رکھتے ہیں۔ اگر کھانے سے پہلے اسے آدھا لیتے ہیں چونکہ اس میں 40 کیلوریز ہوتی ہے ان کے لئے فائدہ مند ہے جو ڈائٹ فوڈ لیتے ہوں، اور ان کے وزن بارہ ہفتوں میں ساڑھے تین پاؤنڈز کم ہوجاتاہے اس کا کھانا بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول رکھتا ہے۔

8۔ خربوزہ (پانی کی مقدار 90.2 فیصد)
خربوزہ میں پانی کے ساتھ ساتھ دیگر غذائی اجزاء بھی کم کیلوریز کے ساتھ بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں خربوزے کی ایک قاش میں تقریباً 50 کیلوریز ہوتی ہیں مگر یہ ہماری روز کی وٹامن اے اور سی کی ضرورت کو سوفیصد پورا کرتا ہے یہ ایک بہترین سوئیٹ ڈش کے طور پر کام کرتا ہے اگر آپ اسے دہی کے ساتھ بلینڈ کریں اور پھر اسے فریز کردیں یا پھر اس کی پیوری اورنج جوس اور پودینہ کے ساتھ بنالیں تو یہ ایک بہترین سوپ بن جاتا ہے۔

9۔ اسٹرابیری (پانی کی مقدار 91.0 فیصد)
ساری بیریز ہی ہائیڈریشن کے لحاظ سے بہترین سمجھی جاتی ہیں لیکن ان سب میں لال اسٹرابیری سب سے بہتر مانی جاتی ہے اس بیری اور بلوبیری میں 85 فیصد پانی پایا جاتا ہے جبکہ بلیک بیری میں 88.2 پانی کی مقدار ہوتی ہے۔ کم چکنائی دہی کے ساتھ اسٹرابیری کھانے میں بہترین فلیور فراہم کرتی ہے اس سے ہمارے کھانوں میں قدرت میٹھا شامل کردیتی ہے اس میں موجود کاربوہائیڈریٹ، فائبر اور پروٹین آپ کو تروتازہ اور ایکٹو کردینے میں مدد دیتے ہیں۔

10۔بروکلی (پانی کی مقدار 90.7 فیصد)
بروکلی کا تعلق پھول گوبھی کے خاندان سے ہے یہ بھی آپ کے سلاد میں ایک بہترین ذائقہ فراہم کرتی ہے مگر اس میں موجود غذائی اجزاء جیسے کہ فائبر، پوٹاشیم، وٹامن اے اور وٹامن سی اسے زیادہ بہتر بناتی ہے بروکلی ایسی واحد سبزی ہے جس کے اندر سیل فوراٹ پائی جاتی ہے جوکہ ایک ایسا کمپاؤنڈ ہے جو کہ آپ کے جسم میں موجودہ حفاظتی نظام کے انزائمزکو طاقت ور بناتا ہے اور ایسے کیمیکلز جو ہمارے جسم میں کینسر پیدا کرسکتے ہیں ان کو باہر نکال دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں