64

کیا آپ بلیک ہول میں اترنا چاہتے ہیں

(ویب ڈیسک) دنیا بھر کے سائنس دان جلد ہی میکسیکو کے جزیرہ نما یوکاتان کی زیرسمندر غار میں اتر سکیں گے، جس کی تھری ڈی نقل تیار کی جا رہی ہے۔ اسی غار سے امریکا میں اب تک دریافت ہونے والا سب سے قدیم انسانی ڈھانچا برآمد کیا گیا تھا۔

ماہربشریات، غاروں کے ماہرین، ماہرینِ آثار قدیمہ اور فوٹوگرافر جزیرہ نما یوکاتان کی ’بلیک ہول‘ نامی غار کی تھری ڈی نقل تیار کر رہے ہیں۔ ہسپانوی زبان میں اسے ’ہایو نیگرو‘ یا ’بلیک ہول‘ کہا جاتا ہے۔ یہ زیرسمندر کان اس لیے سائنسدانوں کے باعث دلچسپی ہے، کیوں کہ اس سے سن 2011میں نائیا نامی لڑکی کا ڈھانچا برآمد ہوا تھا۔ یہ ڈھانچا تیرہ ہزار سال پرانا تھا، تاہم زیرسمندر ہونے کی وجہ سے اس غار کے اندر اترنا آسان نہیں تھا اور اسی لیے اس کی تھری ڈی نقل تیار کی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے حال ہی میں ماہر آثارقدیمہ البیرتو ناوا نے اس غار کے تیار کی جانے والی تھری ڈی نقل کی نمائش کی۔ ناوا ہی نے سن 2007 میں یہ غار دریافت کی تھی۔
اس پروجیکٹ کو اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے، کیوں کہ یہ غار دنیا کی سب سے بڑی زیرسمندر غار ہے۔ گزشتہ ماہ اس کی موجودگی عوامی سطح پر ظاہر کی گئی تھی۔ ناوا نے ’بلیک ہول‘ سے متصل میکسیکن ریاست کیونتانا رو میں صحافیوں کو بتایا، ’’کسی روز میں اس غار کا مکمل مشابہہ یا نقل تیار کر لوں گا۔‘‘
گھنٹی کی شکل کی اس غار سے 42جانوروں کے ڈھانچے اور باقیات مل چکی ہیں، جن میں ایک چیتے کے دانت بھی شامل ہیں۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ 13ہزار برس قبل سمندر کی سطح اس غار سے آج کے مقابلے میں 80تا 100میٹر نیچے تھے۔ اس غار سے نایا نامی لڑکی کا قریب مکمل ڈھانچا ملاہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ 13ہزار برس قبل اس لڑکی کو غالبا معلوم تھا کہ اس غار میں داخل ہونا خطرے سے خالی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں