news, information 68

کھٹے میٹھے فالسے کے حیرت انگیز اثرات سے فائدہ اٹھائیں

روزمرہ کی خوراک کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو خوش رنگ، خوش ذائقہ اور فرحت بخش پھلوں کے عظیم تحفے سے بھی نوازا ہے۔ براعظم ایشیا کا مقبول ترین پھل فالسہ اپنے ذائقے اور فرحت بخش اثرات کے باعث بڑی اہمیت کا حامل ہے۔فالسہ کا پھل کم و بیش مٹر جتنا یا اس سے کچھ بڑا ہوتا ہے۔ ابتدامیں سبز پھر سرخ اور آخر میں سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ اس کے پھو ل زرد ہوتے ہیں اور پتے توت کی طرح لیکن اس سے کچھ بڑے اور ان کے کناروں پر خطوط ہوتے ہیں۔ اس کا ذائقہ شیریں و ترش ہوتا ہے۔ اس کا مزاج سرد، دوسرے درجے میں اور ترہوتا ہے۔گرمیوں کے موسم میں فالسہ بہت بڑی قدرتی نعمت ہے۔ فالسہ نعمت خداوندی میں سے ایک بہترین تحفہ ہے جو خوشنما ہونے کے ساتھ ساتھ خوش ذائقہ بھی ہے اور یہ ہمیں موسم گرما کی شدت سے محفوظ رکھتا ہے.
اس کا جوس بنائیں یا ویسے ہی کھائیں، کچھ دنوں کے لیے آنے والا یہ پھل کئی طرح منہ کے ذائقہ بہتر بنانے کا کام کرتا ہے.مگر کیا آپ کو صحت کے لیے اس کے فوائد کا علم ہے؟ جن میں سے ایک ہیٹ اسٹروک سے بچاﺅ بھی ہے؟ درحقیقت یہ کسی بھی سپر فوڈ سے کم نہیں جس کے چند فوائد درج ذیل ہیں.

دل کو مضبوط بنائے
فالسے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ورم میں کمی لاتا ہے جو اسے دل کی صحت کے لیے مفید پھل بناتا ہے، چٹکی بھر کالی مرچ اور نمک کو 50 ملی لیٹر فالسے کے جوس میں ملائیں اور پی لیں۔

معدے کے لیے بہترین
فالسے کا جوس نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہے، انسائیکلو پیڈیا آف ورلڈ Medicinal پلانٹس کے مطابق یہ نہ صرف نظام ہاضمہ کے افعال کو کنٹرول میں رکھتا ہے بلکہ یہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی کو دور بھی کرتا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق فالسے کا جوس پینے سے پیٹ کے درد کا علاج بھی ممکن ہے، جس کے لیے جوس میں تین گرام اجوائن ملائیں اور تھوڑا سا گرم کرکے پی لیں۔

جوان رکھے
اس پھل کی قدرتی رنگت یعنی جامنی رنگ درحقیقت ایک اینٹی آکسائیڈنٹ کی وجہ سے ہے جو اینتھوسیان سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ کیمیکل ایک ہارمون کولیگن (جو جلد کی لچک اور نرمی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے)کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور جلد کی جوانی کو بحال کرتا ہے۔ فالسے کا استعمال خون کو بھی صاف کرتا ہے جس سے جلد بھی شفاف ہوتی ہے اور وہ جگمگانے لگتی ہے۔

ذیابیطس کے مریض دل کھول کر کھائیں
فالسے میں مٹھاس عام طور پر نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، پاکستان جرنل آف فارماسیوٹیکل سائنز کے مطابق فالسہ کم شکر والا پھل ہے، جس کا مطلب ہے کہ ذیابیطس اور خون کی شریانوں سے متعلق امراض کے شکار افراد اس سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

کینسر کے خلاف مفید
یہ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جس سے کینسر کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

استعمال
فالسہ کی لکڑی سے ٹوکریاں بنتی ہیں اور آرائشی سامان بھی تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی آرائشی باڑ بھی لگائی جاتی ہے۔ اس کے پتوں سے بیڑی بھی بنائی جاتی ہے۔ اس کی فی ایکڑ پودوں کی تعداد 1000 سے 1200 تک ہوتی ہے۔ فالسہ کا پھل کھانے کے علاوہ فالسہ کی سردائی، اچار اور چٹنی بھی بنائی جاتی ہے۔ فالسہ کا مربہ بھی بنایا جاتا ہے، اس کے شربت اور سردائی کے استعمال سے پیاس کی شدت کم ہو جاتی ہے۔

احتیاط:
زیادہ ترش فالسہ گلے کی خرابی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ہائی بلڈپریشر کے مریض فالسہ کھاتے وقت نمک کا استعمال نہ کریں۔بعض افراد میں فالسہ خشکی اور قبض پیدا کر تا ہے ۔ اگر گلقند یا معجون فلا سفہ کا ایک چمچہ چائے والا فالسے کے بعد لے لیا جائے تو پھر قابض اورخشک نہیں رہتا ۔ فالسہ سرد مزاج والوںکے سینے او ر پھیپھڑوںکیلئے مضر ہے اس لئے انہیں احتیاط سے استعما ل کرنا چائیے اور ضرورت سے زیادہ نہیں کھانا چائیے۔ اگر زیادہ کھا لیا جائے تو پھر گلقند تھوڑی سی کھا لینے سے اس کے مضر اثرات نہیں ہوتے۔ کھٹا اور نیم پختہ فالسہ استعمال نہیں کرنا چائیے. فالسہ کا مقدار کے مطابق استعمال کرنا ہر صورت میں فائدہ مندثابت ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں