news,information 80

پرانا لاہور

دریائے راوی کسی زمانے میں شاہی قلعے کے ساتھ بہتا تھا۔ پھر دریا نے راستہ بدل لیااور باقی مندہ دریا بڈھا راوی کہلانے لگا۔اب بڈھے راوی کا نام و نشان بھی مٹ چکا ہے۔دریائے راوی اب اپنے حسن اور پانی سے محروم ہو چکا ہے۔لاہور والے نہ تو اسکے کنارے پکنک کر سکتے ہیںنہ کشتی رانی کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ آج ہم جو لاہور دیکھ رہے ہیں یہ ایک جدید اور بدلا ہوا شہر ہےجس کے کچھ حصے تو پہچانے بھی نہیں جاتے لیکن پھر بھی قدیم لاہور میں پرانہ ماحول اور روایات نظر آجاتی ہے۔ایک زمانہ تھا جب لاہور میں ہر طرف سبزہ اور بڑے بڑے خوبصورت درخت تھے۔ہر طرف سے سبزے ، پھولوں، اور درختوں کی خوشبو آتی تھی۔

news, information

اندرون لاہور میں بانسوں والی سڑک اور بوریاں والی سڑکیں ہوتی تھی۔ سڑک کا نام کوئی نہیں جانتاتھا۔ کوچہ گلی اور سڑک ہی لوگوں کو جانتے تھے۔
پرانے شہر میں پتلی پتلی بل کھاتی گلیاں ہوتی تھیں جن میں نئے آنے والے بھول بھلیوں میں گم ہو جاتے تھے۔ پرانے لاہور شہر میں  اونچے اونچے مکانات ایک دوسرے سے جڑے ہوتے تھے لیکن ان میں دم نہیں گٹھتا تھا جب ہوا چلتی تھی تو یا گلیاں تازہ ہوا سے بھر جایا کرتی تھیں۔گھروں کے سامنے خوبصورت نقش و نگار بنے ہوتے تھے۔ کسی پر جانوروں کی تصویریں تو کسی پر پھول بانے ہوتے تھے۔مکانوں کے پرانے بڑے دروازے بہت خوبصورت لکڑی سے سجائے جاتے تھے۔ بازا ر اور دکانیں ایک مخصوص حصے میں ہوا کرتی تھیں۔ یہ نہیں کہ ہر جگہ بازار اور شاپنگ سنٹروں کی وجہ سے انسانوں کو سانس لینا ہی مشکل ہو جائے۔ لیکن باقی تمام علاقے دکانوں اور کاروباری شوروغل سے محفوظ تھے۔

news. information

ٹیمپل روڑ، لارنس روڑ،کوئز روڑ، مزنگ روڑ، وارث روڑ، نسبت روڑ، گوالمیڈی، چمبرلین روڑ، پنج محل،جیل روڑ، ڈیوس روڑ اور گلبرگ بہت پر سکون رہائشی علاقے تھے۔ ان علاقوں میں بڑے بڑے کشادہ مکان تھے، گھروں میں خوبصورت لان اور باغ تھے جن کی وجہ سے یہ علاقے خوشبو سے مہکتے رہتے تھے۔ موتیا، چنبیلی،کرنے، مروا اور رات کی رانی کے پودے اور درخت قریب قریب ہر گھر میں ہوتے تھے۔ یہ سارہ علاقہ خوشبو سے مہکتا رہتا تھا۔لاہور شہر اتنا خاموش اور پرسکون تھا کہ چڑیا گھر کا شیر جب دہاڑتا تھاتو اس کی آواز دور دور تک سنائی دیتی تھیں۔ پانچوں وقت کی اذانیں دور دور تک سنائی دیتی تھیں۔ لوگ جوق در جوق نماز کی طرف رجوع ہوتے تھے مگر صد افسوس یہ بھی سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ اس زمانے کا لاہور سبزہ زارہں۔ پھولوں، درختوں اور خوبصورت عمارتوں کا پرسکون شہر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سارے ہندوستان میں کہا جاتا تھا کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا سمجھو وہ پیدا نہیں ہوا۔
اب تو وہ لاہور نہ جانے کہاں چلا گیا ہے۔

news, information

تاریخ کے اوراق میں گم ہو گیا ہے۔ مگر لاہور کےپرانے شہریوں کی یادوں میں آج بھی آباد ہے اور اب والا لاہور سیمنٹ کی اونچی اونچی دیواروں کا ایک جنگل ہے جہاںغلاظت، بدبو، پٹرول کی بو، دھوئیںکے گندے ماحول کی وجہ سے لاہوری اکثر بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ آہ! لاہور۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں