news, information 77

جاپانی نظامِ تعلیم،دنیا میں سب سے بہترین…..؟

(ویب ڈیسک)جاپان کے پہلے وزیر تعلیم آری نوری موری نے 1885ء میں کہا تھا:’’جاپان میں تعلیم کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ایسے لوگ تیار کیے جائیں جو فنون اور سائنسز کی تیکنیکوں سے بہرہ ور ہوں بلکہ اس کا مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو ریاست کو درکار ہوں‘‘۔
کر ہِ عرض پہ موجود 169ممالک کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک۔ اِن دو نوں اقسام کا جائزہ لیں تو اس تفریق کے پیچھے ایک بڑی وجہ نظامِ تعلیم نظر آتی ہے۔ بہترین نظامِ تعلیم کی فہرست کو دیکھیں تو سرفہرست جاپا ن ہے ۔آیئے آج اس بات کا جائزہ لیں کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بناء پر جاپان کے تعلیمی ادارے باقی دنیا سے آگے ہیں۔

تعلیمی سال کا آغاز یکم اپریل کو ہوتا ہے
دنیا بھر میں نیا تعلیمی سال ستمبر میں شروع ہوتا ہے لیکن جاپان میں ایسا نہیں ہے۔ جاپان میں نئے تعلیمی سال کا آغاز چیری کے شگوفوں کے کھلنے کے موسم میں ہوتا ہے۔ جاپان میں سکول، کالج اور یونیورسٹی یکم اپریل کو کھلتے ہیں۔ عام طور پر ایک تعلیمی سال تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔یکم اپریل تا بیس جولائی، یکم ستمبر تا چھبیس دسمبر اور سات جنوری تا پچیس مارچ۔ گرمیوں کے موسم میں طلبہ کو چھ ہفتوں کی چھٹیاں دی جاتی ہیں اور موسمِ سرما اور بہار میں دو ہفتوں کی چھٹیاں ملتی ہیں۔

تعلیم سے پہلے طور طریقے
جاپان کے سکول پہلے تین سال طالب علموں کو روائیتی تعلیم نہیں دیتے۔ گریڈ چہارم سے پہلے جاپانی سکولوں میں امتحان لینے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جاپانی تعلیمی نظام کے مطابق کسی بھی جاپانی بچے کے سکول میں پہلے تین سال بہت اہم ہوتے ہیں۔ ان سالوں میں اس کی کردار سازی پر توجہ دی جاتی ہے اور انہیں مختلف طور طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ بچوں کو بڑوں کی عزت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں جانوروں سے شفقت اور دیگر اخلاقی قدریں بھی سکھائی جاتی ہیں۔

طلبہ کو دوپہر کا کھانا سکول میں ہی ملتا ہے
News, information
جاپان کے سکولوں میں طلبہ کو دوپہر کا کھانا سکول میں ہی ملتا ہے اور تمام طلبہ ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں۔ جاپانی تعلیمی نظام کے مطابق طلبہ کو اپنے گردو نواح کے بارے میں تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی صحت کے بارے میں دھیان رکھنا بھی سکھانا چاہیے۔ اس لیے وہاں سکولوں میں طلبہ کو ایک صحت مند خوراک مہیا کی جاتی ہے تا کہ وہ ایک متوازن غذا کھانے کی عادت اختیار کر سکیں۔ طلبہ کے لیے کھانا بہترین باورچیوں کے علاوہ ماہرِ غزائیت کی نگرانی میں بنوایا جاتا ہے۔

طالبعلم خود صفائی کریں
News,information
جاپان کے سکولوں میں بچے خود صفائی کرتے ہیں۔ یہ طالب علم اپنے کمرہ جماعت، کیفیٹیریا کے علاوہ بیت الخلاء بھی صاف کرتے ہیں۔ سکول انتظامیہ صفائی کا مکمل کام بچوں میں تقسیم کرتی ہے اور پورا سال بچے صفائی کے یہ کام نبٹاتے رہتے ہیں۔ جاپانی ثقافت کے مطابق اپنے سکول کی صفائی کرنے سے بچوں کو صفائی کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے نیز وہ اپنے اور دوسروں کے کام کی عزت کرنا بھی سیکھتے ہیں۔

آرٹس کی تعلیم لازمی ہے
news, information
جاپانی طلبہ کے لیے جاپانی ثقافت اور آرٹس کی تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی انہیں جاپانی کیلیگرافی اور پینٹنگ سکھائی جاتی ہے۔ اس کے لیے جاپان میں کئی سکول کام کر رہے ہیں۔ جاپانی کیلیگرافی چاول سے بنے کاغذ پر کی جاتی ہے۔ اس کے لیے نہائیت مہارت درکار ہوتی ہے۔

سکول کے بعد بھی پڑھائی
جاپانی طلبہ کی زندگی آسان نہیں ہوتی۔ انہیں سکول میں آٹھ گھنٹے پڑھائی کے بعد بھی مختلف جگہ جا کر مختلف علوم سیکھنے ہوتے ہیں۔ اکثر سکولوں میں طلبہ کے لیے اضافی کوچنگ کلاسز کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ طلبہ مختلف اقسام کی ورکشاپس میں بھی شریک ہوتے ہیں تا کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ چیزیں سیکھ سکیں۔ جاپان میں طلبہ کا رات گئے گھر آنا ایک معمول کی بات ہے۔

مشکل ترین داخلہ ٹیسٹ
جاپان کی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے طلبہ کو ایک انتہائی مشکل داخلہ ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے۔ طلبہ اپنی مرضی کی کسی یونیورسٹی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ہر یونیورسٹی نے داخلے کے لیے ایک مخصوص سکور کی شرط رکھی ہوتی ہے۔ جو طلبہ داخلہ ٹیسٹ میں اتنے نمبر لینے میں کامیاب ہوتے ہیں، انہیں یونیورسٹی میں داخلہ دے دیا جاتا ہے۔

یہ ہیں وہ وجوہات جن کی بنا پر دنیا کے لاکھوں نظامِ تعلیم میں جاپانی نظامِ تعلیم پہلے نمبر پرسمجھا جاتا ہے۔ جاپان ایک ایسی قوم ہے جس نے سیکھا اور سکھایا ہے اور وہ یہ کہ آگے کیسے بڑھا جاتا ہے۔ہمیں بھی چاہئے کہ اپنے فرسودہ نظامِ تعلیم کو بہتری کی جانب لائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں مثبت اور بہتر پاکستان دیکھ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “جاپانی نظامِ تعلیم،دنیا میں سب سے بہترین…..؟

اپنا تبصرہ بھیجیں