news, information 72

بحرِ مردار کو مردار کیوں کہتے ہیں؟

زندگی اور موت کے الفاظ کبھی متروک کیوں نہیں ہوتے؟ بحر مردار کو بحر مردار کیوں کہتے ہیں؟ موت کا اس سمندر سے تعلق کیونکر ہوا؟ کیا کثافتیں موت کو جنم دیتی ہیں؟ بحر مردار آج بھی ایک پراسرار معمہ ہے۔

news, information

بحرِ مردار اردن اور فلسطین کے درمیان میں واقع ہے، اس کے پانی میں کثافتیں اور نمک کی مقدار بہت زیادہ ہے اس لئے اس کے پانی میں کوئی مخلوق زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہ دنیا میں سطح سمندر سے سب سے نچلا علاقہ ہے۔ ماہر ارضیات کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ بحرِ مردار یعنی Dead Seaوہی علاقہ ہے جہاں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر اللہ کریم کا عذاب نازل ہوا۔ ایسا مقام ہے کہ جہاں بارش اور آس پاس سے زمین کے اندر اور اوپر سے پانی نیچے کی طرف آتا ہے۔ یہاں پانی آتا تو ہے لیکن یہاں سے کہیں جاتا نہیں۔ مطلب یہ کہ یہ چاروں طرف سے ایک طرح سے بند ہے اور اس پانی کا مقدر صرف بخارات بن کر اڑنا ہی ہے۔ صدیوں سے پانی کے یوں اوپر اڑنے کی وجہ سے نیچے صرف معدنیات اور نمکیاتی مادہ ہی رہ گیا ہے جو صدیوں کے اس عمل سے اتنا نمکین ہو چکا ہے کہ اس میں جاندار چیزوں جیسے کہ مچھلیاں یا پودوں کا رہنا ناممکن ہے۔ ہاں کئی ایسے بیکٹیریا ضرور ہیں جو ہر طرح کا ماحول برداشت کر لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسے بحرِ مردار کہتے ہیں یعنی مری ہوئی چیزوں کا سمندر یا وہ سمندر جہاں کوئی چیز زندہ نہیں رہ سکتی۔

news, information

یہ اس خطے کے بہت سے دوسرے مقامات کی طرح ایک بہت بڑا سیاحتی مرکز بھی ہے۔ کیونکہ یہاں پانی میں نمک اور معدنیات کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے اس لیے اس پانی سے کئی بیماریوں کا علاج بھی ہو جاتا ہے۔ لوگ اس کے پانی میں نہاتے ہیں، اس کی مٹی جسم پر مل کر ساحل پر لیٹتے ہیں جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ جسموں کو صحت اور تازگی بخشتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں